تعریف:
ہومیوپیتھک اُصول کے پہلے دریافت کنندہ:
ہومیوپیتھک اُصول علاج کے سب سے پہلے دریافت کرنے والے طب کے باپ جناب بقراط صاحب تھے جو 460ء قبل مسیح جزیرہ قاس میں پید ا ہوئے۔آپ ملک یونان کے نہایت نامور اور جلیل القدر طبیب تھے۔آپ شروع شروع میں علاج بالضد کے قائل تھے اور چار خلطوں یعنی خون، بلغم، صفرا ء سودا اور چار حالتوں یعنی گرمی، سردی، خشکی، تری کو طب کی بنیاد مان کر علاج کرتے تھے۔یہ چار عناصر کا نظریہ جناب بقراط نے حکیم ایم پیڈوکل سے لیا تھا۔لیکن آپ کی سوانح حیات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بعد ازاں اس مادی نظریہ کو ترک کر کے اپنی نئی تحقیق پر علاج کا دارو مدار قائم کیا۔آ پ کی نئی تحقیق یہ تھی کہ طبیعت مدبرہ بدن ہے۔وہی ہر مرض کے علاج میں قدرتی معاون ہے اور دفیعہ مرض میں طبیعت کی مناسب مدد کرنا ہی صحیح اُصول ِ علاج ہے۔چنانچہ اس نئی تحقیق یا اُصول فطرت کو معلوم کرنے کے بعد انھوں نے اپنی باقی ماندہ زندگی اسی اصول کے ماتحت علاج معالجہ میں گزار دی۔لیکن اس وقت کے حکماء نے گو اس اصول کو زبانی طور پر درست تسلیم کیا اور بعد میں آنے والے حکماء بھی گو اس اُصول کو نظری طور پر درست تسلیم کرتے چلے آئے ہیں لیکن نہ تو سوائے جناب بقراط کے اس وقت کسی حکیم نے عمل کیااور نہ اسکے بعد کسی دیگر حکیم نے سوائے ہوہیوپیتھک کے بانی ھانیمن اعظم کے جنھوں نے اس اصول کو ہاتھ میں لے کرعلاج معالجہ کیلئے وہ شاندار نظام بنا ڈالا جس سے کروڑ ھا بندگان خدا آج تک مستفید ہو رہے ہیں اور قیامت تک مستفید ہوتے رہیں گے۔
بانی ہومیوپیتھی ہانیمن اعظم
ہومیوپیتھی کے بانی کا نام کرسچن فریڈرک سیموئیل ہانیمن تھا۔آپ جرمنی کے علاقہ سیکسینی کے ایک خوبصورت قصبے میسن میں 1755 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔آپ کی برسی تمام دنیا میں ہر سال 10 اپریل کے پورے جوش و خروش سے منائی جاتی ہے ۔
ہانیمن کے والد میسن میں موجود چینی کے برتنوں کی فیکٹری میں صناع اور مصور کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور مشکل سے گزر اوقات ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہانیمن نے اپنی زندگی کی ابتدا جدوجہد میں گزاری۔ابتدائی زندگی غربت و افلاس کے خلاف تھی اور ما بعد کی جدو جہد ذہنی تعصبات کے خلاف تھی۔
ڈاکٹر ھانیمن کی زندگی میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب وہ اپنے وقت کے ایک مشہور و معروف ڈاکٹر ولیم کیولین کی کتاب خواص الادویہ کا ترجمہ کر رہے تھے۔اپنی کتاب میں ڈاکٹر ولیم کیولین نے سنکونا درخت کی چھال کو اسکی تلخی اور معدہ پر اسکی قوت بخش تاثیرات کے سبب ملیریا بخار کے علاج میں مفید قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر ولیم کیولین کے اس بیان نے ڈاکٹر ہانیمن کی توجہ کو اپنی طرف مائل کیا ۔ ڈاکٹر ہانیمن ڈاکٹر ولیم کیولین کی اس وضاحت سے بالکل بھی مطمئن نہ ہوئے کیونکہ ڈاکٹر ہانیمن اچھی طرح جانتے تھے کہ قدرت میں اور کئی ایسے مادے انہیں خصوصیات کے ساتھ پائے جاتے ہیں مگر وہ ملیریا میں مفید نہیں ہیں اور اسی آگاہی نے ہانیمن کو سنکونا درخت کی چھال کی طبی قدر و قیمت کو زیادہ بہتر طور پر بیان کرنے کا اہل بنایا۔ لہذا ڈاکٹر ہانیمن نے سنکونا کی چھال کے عمل کی حقیقت معلوم کرنے کےلئےاس چھال کا چار ڈرام رس دن میں دو مرتبہ کے حساب سے کچھ دن تک خود لینا شروع کیا۔
ایک تبصرہ شائع کریں