ہومیوپیتھی و بانی ہومیوپیتھی


 تعریف:

لفظ ہومیوپیتھی دو یونانی الفاظ " ہومیو " اور  "  پیتھوز "کا مرکب ہے۔ہومیو کا مطلب ہے بالمثل جبکہ پیتھوز کا مطلب بیماری ہے۔یعنی بیماری کے بالمثل یا بیماری سے ملتی جلتی۔دوسرے لفظوں میں بیماری سے ملتی جلتی علامات پیدا کرنے والے مادوں سے اسی بیماری کا علاج۔
مزید آسان لفظوں میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک مادہ کسی صحت مند انسان میں جس مخصوص بیماری کو جنم دیتا ہے کسی بیمار انسان میں ویسی ہی ملتی جلتی بیماری کا خاتمہ بھی کرتا ہے۔اسے لائیک کیور لائیک(Liike Cures Like)کہا جاتا ہے۔یعنی ہومیوپیتھی قانون مماثلت پر مبنی ہے  اور اسے علاج بالمثل کہا جاتا ہے۔


ہومیوپیتھک اُصول کے پہلے دریافت کنندہ:

ہومیوپیتھک اُصول علاج کے سب سے پہلے دریافت کرنے والے طب کے باپ جناب بقراط صاحب تھے جو 460ء قبل مسیح جزیرہ قاس میں پید ا ہوئے۔آپ ملک یونان کے نہایت نامور اور جلیل القدر طبیب تھے۔آپ شروع شروع میں علاج بالضد کے قائل تھے اور چار خلطوں یعنی خون، بلغم، صفرا ء سودا  اور چار حالتوں یعنی گرمی، سردی، خشکی، تری کو طب کی بنیاد مان کر علاج کرتے تھے۔یہ چار عناصر کا نظریہ جناب بقراط نے حکیم ایم پیڈوکل سے لیا تھا۔لیکن آپ کی سوانح حیات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بعد ازاں اس مادی نظریہ کو ترک کر کے اپنی نئی تحقیق پر علاج کا دارو مدار قائم کیا۔آ پ کی نئی تحقیق یہ تھی کہ طبیعت مدبرہ بدن ہے۔وہی ہر مرض کے علاج میں قدرتی معاون ہے اور دفیعہ مرض میں طبیعت کی مناسب مدد کرنا ہی صحیح اُصول ِ علاج ہے۔

چنانچہ اس نئی تحقیق یا اُصول فطرت کو معلوم کرنے کے بعد انھوں نے اپنی باقی ماندہ زندگی اسی اصول کے ماتحت علاج معالجہ میں گزار دی۔لیکن اس وقت کے حکماء نے گو اس اصول کو زبانی طور پر درست تسلیم کیا اور بعد میں آنے والے حکماء بھی گو اس اُصول کو نظری طور پر درست تسلیم کرتے چلے آئے ہیں لیکن نہ تو سوائے جناب بقراط کے اس وقت کسی حکیم نے عمل کیااور نہ اسکے بعد کسی دیگر حکیم نے سوائے ہوہیوپیتھک کے بانی ھانیمن اعظم کے جنھوں نے اس اصول کو ہاتھ میں لے کرعلاج معالجہ کیلئے وہ شاندار نظام بنا ڈالا جس سے کروڑ ھا بندگان خدا آج تک مستفید ہو رہے ہیں اور قیامت تک مستفید ہوتے رہیں گے۔

 بانی ہومیوپیتھی ہانیمن اعظم

ہومیوپیتھی کے بانی کا نام کرسچن فریڈرک سیموئیل ہانیمن تھا۔آپ جرمنی کے علاقہ سیکسینی کے ایک خوبصورت قصبے میسن میں 1755 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔آپ کی برسی تمام دنیا میں ہر سال 10 اپریل کے پورے جوش و خروش سے منائی جاتی ہے ۔


ہانیمن کے والد میسن میں موجود چینی کے برتنوں کی فیکٹری میں صناع اور مصور کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور مشکل سے گزر اوقات ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہانیمن نے اپنی زندگی کی ابتدا جدوجہد میں گزاری۔ابتدائی زندگی غربت و افلاس کے خلاف تھی اور ما بعد کی جدو جہد ذہنی تعصبات کے خلاف تھی۔ 

ہانیمن نے میسن کے پبلک سکول میں کئی سال گزارے حتی کے وہ وقت آن پہنچا جب مالی حالات کمزور ہونے کے باعث ہانیمن کو سکول ترک کرنا پڑا۔جب ہانیمن کے استاد نے یہ دیکھا 

انھیں مختلف زبانیں سیکھنے کا بہت شوق تھا۔چنانچہ انھوں نے آٹھ زبانوں پر مکمل عبور حاصل کیا اور صرف بارہ برس کی عمر ہی میں یونانی زبان پڑھانا شروع کر دی اور اسطرح چھوٹی سی عمر ہی میں کئی زبانوں کے استاد بن گئے۔

ڈاکٹر ھانیمن نے یونیورسٹی آف لائپزگ (Leipzig) ،آسٹریا  (Austria)میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔پھر وی آنا گئے اور پھر وہاں سے ایر لانگن(Erlangen) تشریف لے گئے جہاں 1779 ء میں میڈیکل ڈاکٹر بن گئے اور ڈریسڈرن (Dresdren) میں اپنی میڈیکل پریکٹس کا آغاز کیا۔
ڈاکٹر ھانیمن اپنی پریکٹس کے دوران غریبوں کا اپنی جیب سے علاج کیا کرتے تھے اس لئے اس شعبہ سے انکی آمدنی کچھ زیادہ نہیں تھی۔اس وجہ سے انھوں نے اپنی میڈیکل پریکٹس کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں میں تراجم کرنے کا کام بھی جاری رکھا۔

ڈاکٹر ھانیمن اپنے دور میں مروج علاج کے طریقوں سے بالکل بھی مطمئن نہ تھے۔انکے نزدیک علاج کے مروجہ طریقے مریض کے لئے کسی فائدہ سے زیادہ سخت ضرر رساں تھے۔یہی وجہ ہے کہ انکے ضمیر نے انہیں میڈیکل پروفیشن ترک کردینے پر مجبور کر دیا  اور اپنے وقت کی طب سے متعلقہ عظیم الشان کتب کے تراجم کے کام سے گزر اوقات کرنے لگے۔ 

ڈاکٹر ھانیمن کی زندگی میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب وہ اپنے وقت کے ایک مشہور و معروف ڈاکٹر ولیم کیولین کی کتاب خواص الادویہ کا ترجمہ کر رہے تھے۔اپنی کتاب میں ڈاکٹر ولیم کیولین نے سنکونا درخت کی چھال کو اسکی تلخی اور معدہ پر اسکی قوت بخش تاثیرات  کے  سبب ملیریا بخار کے علاج میں مفید قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر ولیم کیولین کے اس بیان نے ڈاکٹر ہانیمن کی توجہ کو اپنی طرف مائل کیا ۔ ڈاکٹر ہانیمن ڈاکٹر ولیم کیولین  کی اس وضاحت سے بالکل بھی مطمئن نہ ہوئے کیونکہ ڈاکٹر ہانیمن اچھی طرح جانتے تھے کہ قدرت میں اور کئی ایسے مادے  انہیں خصوصیات کے ساتھ پائے جاتے ہیں  مگر وہ ملیریا میں مفید نہیں  ہیں  اور اسی آگاہی نے ہانیمن کو سنکونا درخت کی چھال کی طبی قدر و قیمت کو زیادہ بہتر طور پر بیان کرنے کا اہل بنایا۔ لہذا  ڈاکٹر ہانیمن  نے سنکونا کی چھال  کے عمل کی حقیقت معلوم کرنے کےلئےاس چھال کا چار ڈرام رس دن میں دو مرتبہ کے حساب سے کچھ دن تک خود لینا شروع کیا۔


ہانیمن کی حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی جب بہت ہی جلد ان میں ملیریا بخار جیسی علامات پیدا ہونا شروع ہو گئیں ۔اپنی ابتدائی زندگی  میں ہانیمن ملیریا سے متاثر ہو چکے تھے۔ ا س غیر متوقع نتیجہ نے ہانیمن کے ذہن میں خیالات کے ایک نئے کاروا ں کو جنم دیا۔ اس حقیقت اور بقراط کے دور تک کے  میڈیکل لٹریچر کے وسیع ترین مطالعہ  نے ہانیمن کو اپنے اہم ترین تجربات کی طرف راہنمائی کی۔یعنی ُ اس نظریہ کو پرکھنے کا تجربہ ، جس کے بارے میں بقراط بھی پیشگوئی کر چکا تھا کہ وہ مادے جو بیماری  کی علامات پید کر سکتے ہیں وہی مادے ایسی بیماریوں کو ٹھیک بھی کر سکتے ہیں جنکی علامات ان مادوں سے پیدا شدہ بیماری کی علامات سے ملتی جلتی ہوں ۔ 






0/Post a Comment/Comments